بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بینک کے ملازم پر قربانی کے وجوب کا حکم

سوال

اگر بینک کے ملازم کا ذریعہ آمدنی کوئی نہ ہو اور ان کا یہ مال نصاب کو پہنچ جائے تو کیا اس پر قربانی واجب ہے؟

جواب

بینک کا مدار سودی نظام پر ہے، اور  سود ی رقم ہی سے ملازمین کو تنخواہ دی جاتی ہے اور  سود کا لینا دینا، لکھنا اور اس میں گواہ بننا سب ناجائز  اور حرام ہے، اور بینک  ملازم سود لینے ، دینے  یا لکھنے کے کام میں مصروف ہوتے ہیں  یا کم سے کم ان کاموں میں معاون ہوتے ہیں اور یہ سب ناجائز و حرام ہیں،  لہذا بینک  کی ملازمت  ناجائز ہے  اور تنخواہ بھی حرام ہے، لہذا  مذکورہ شخص کو چاہیے کہ  توبہ واستٖغفا ر کرے اور  کوئی جائز ذریعہ آمدنی تلاش کرے اور پھر بینک کی ملازمت ترک کردے، باقی بینک کے ملازم کے پاس اگر صرف بینک کی کمائی ہی کے پیسے ہوں تو  چوں کہ وہ سارے پیسے واجب التصدق ہیں؛ اس لیے  وہ پیسے نصاب کے بقدر ہونے کے باوجود وہ صاحبِ نصاب نہیں بنے گا اور اسی وجہ سے اس پر قربانی کرنا واجب نہیں ہوگا۔

صحيح مسلم (2/ 703):

"عن أبي حازم، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أيها الناس، إن الله طيب لايقبل إلا طيباً، وإن الله أمر المؤمنين بما أمر به المرسلين، فقال: {يا أيها الرسل كلوا من الطيبات واعملوا صالحاً، إني بما تعملون عليم} [المؤمنون: 51] وقال: {يا أيها الذين آمنوا كلوا من طيبات ما رزقناكم} [البقرة: 172]، ثم ذكر الرجل يطيل السفر أشعث أغبر، يمد يديه إلى السماء، يا رب، يا رب، ومطعمه حرام، ومشربه حرام، وملبسه حرام، وغذي بالحرام، فأنى يستجاب لذلك؟"

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 291):

"في القنية: لو كان الخبيث نصاباً لا يلزمه الزكاة ؛ لأن الكل واجب التصدق عليه فلايفيد إيجاب التصدق ببعضه. اهـ."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144211201349
تاریخ06-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں