بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بھینس کی قربانی کا حکم

سوال

کیا ہم بھینس کی قربانی میں حصہ ڈال سکتے ہیں؟  کیابھینس کی قربانی سنتِ   رسول ہے یا نہیں؟

جواب

رسول اللہ ﷺ  سے گائے کا ذبح کرنا تو صراحت کے ساتھ ثابت ہے،  لیکن بھینس کا قربانی میں ذبح  کرنا صراحت کے ساتھ نہیں ملتا،اس کی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں، مثلًا: سرزمینِ حجاز میں بھینسوں کی قلت یا اس وقت عدمِ وجود!  تاہم بھینس بھی گائے  کی ہی جنس سے ہے، اور  فقہاءِ کرام اور ماہرینِ حیوانات نے اسے گائے کی ہی قسم شمار کیا ہے؛  اس لیے بھینس کی قربانی کرنا جائز ہے اور  اس میں حصہ ڈالنے میں شرعًا کوئی قباحت نہیں ہے۔

فتح القدیر میں ہے:

’’ويدخل في البقر الجاموس؛ لأنه من جنسه.‘‘ (22/106)

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144211201310
تاریخ05-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں