بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کاروبار میں کمیشن لینا

سوال

کاروبار میں کمیشن جائز ہے؟ آڑھت یا  پراپرٹی؟

جواب

مارکیٹ میں جو افراد   فری لانس  لوگوں کو پراپرٹی دلواتے ہیں یا مختلف افراد یا کپمنیوں کا مال کسی اور کو دلواتے یا خریدواتے ہیں اور  درمیان میں اپنامقررہ یا معروف کمیشن وصول کرتے ہیں تو ان کا یہ کمیشن وصول کرنا شرعاً جائز ہوتا ہے۔ 

واضح رہے کہ  دلالی  ( بروکری)  لینا شرعاً  اس  وقت  جائز ہوتا ہے جب کہ بروکر  پراپرٹی   کی خریداری یا فروخت کرنے میں اپنا کردار ادا کرے،  پس  جب وہ کردار ادا کرے اس کے لیے بروکری یا کمیشن وصول کرنا جائز ہوتا ہے، البتہ اگر کسی پارٹی سے ملوانے کے بعد وہ دونوں پارٹیاں  ڈائریکٹ ہوکر بعد میں کوئی سودا کرتے ہیں، جس میں تعارف کرانے والے شخص کی کوئی سعی و کوشش نہیں ہو تو ایسی صورت میں تعارف کرانے والے شخص کوکمیشن کے مطالبہ کا شرعاً حق نہیں ہوتا۔

اسی طرح وہ افراد جو کسی کمپنی میں ملازم ہوں اور کمپنی کا مال بیچنے یا کمپنی کے لیے مال خریدنے پر مامور ہوں اور اس کام کی تنخواہ بھی وصول کرتے ہیں، ان کے لیے کمیشن وصول کرنا شرعاً جائز نہیں، نیز وہ شخص جس کو کسی نے مال خریدنے کے حوالہ سے اپنا وکیل بنا کر بھیجا ہو،  اس کے لیے قیمتِ خرید سے زائد کے واؤچر بنوا کر اپنے موکل (اصل خریدار) سے بطورِ  کمیشن وصول کرنا بھی جائز نہیں۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 63):

"مطلب في أجرة الدلال [تتمة]

قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، و ما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدًا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144211201274
تاریخ05-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں