قرض دار کے لیے قربانی کا حکم
سوال
جس آدمی پر قرض ہو اس پر قربانی ہے یا نہیں؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں اگر کسی شخص کے پاس عید الاضحٰی کے ایام میں قرض کی رقم نکالنے کے بعد نصاب کے بقدر مال (یعنی ضرورت و استعمال سے زائد کسی بھی قسم کا مال یا سامان) موجود نہ ہو تو اس کے ذمے قربانی شرعًا لازم نہیں ہے،لیکن اس کے باوجود اگر وہ قربانی کر لیتا ہے تو اس کو قربانی کا ثواب ملے گا۔
اور اگر اس شخص کے پاس قرض کی رقم نکالنے کے بعد بھی اتنی رقم یا ضرورت و استعمال سے زائد مال یا سامان موجود ہو جو نصاب کے برابر پہنچتا ہو تو شرعًا ایسے شخص پر قربانی لازم ہوگی۔فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

