بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرض دار کے لیے قربانی کا حکم

سوال

جس آدمی پر قرض ہو اس پر قربانی ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  اگر کسی شخص کے پاس  عید الاضحٰی کے ایام میں قرض کی رقم نکالنے کے بعد نصاب کے بقدر  مال (یعنی ضرورت و استعمال سے زائد کسی بھی قسم کا مال یا سامان) موجود  نہ ہو تو اس کے ذمے قربانی شرعًا لازم نہیں ہے،لیکن اس کے باوجود اگر وہ قربانی کر لیتا ہے تو اس کو قربانی کا ثواب ملے گا۔

اور اگر اس شخص کے پاس قرض کی رقم نکالنے کے بعد بھی اتنی رقم  یا ضرورت و استعمال سے زائد مال یا سامان موجود ہو جو نصاب کے برابر پہنچتا ہو تو شرعًا ایسے شخص پر قربانی لازم ہوگی۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144211201262
تاریخ05-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں