بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک مجلس میں الگ الگ تین طلاق دینا

سوال

 ایک شخص نے اپنی بیوی کو  ایک مجلس میں دو طلاقِ  رجعی دیں اور تقریباً دس مِنٹ بعد ایک طلاق اور بھی دے دی تو اس صورت میں کتنی طلاقیں ہوئیں اور اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

جمہور  صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، تابعین، تبع تابعین اور ائمہ اربعہ رحمہم اللہ کی تصریحات  کے مطابق ایک مجلس میں دی جانے والی تین طلاقیں تین ہی شمار ہوتی ہیں۔

لہذ اصورتِ  مسئولہ  میں اگر  مذکورہ شخص نے اپنی بیوی کو   دو طلاق رجعی دینے کے  دس منٹ بعد تیسری طلاق بھی دے دی  تو اس سے بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوگئی ہیں، نکاح ختم ہوگیا ہے، عورت اپنے شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہو گئی ہے ، اب  شوہر کے لیے رجوع  یا تجدیِد نکاح کرنا جائز نہیں ہے، فورا ً علیحدگی لازم ہے۔

 ہاں اگر  عورت عدت گزارنے کے بعد دوسرے شخص سے نکاح کرے پھر وہ اس سے ہم بستری کرنے کے بعد از خود  طلاق دے دے یا مرجائے  تو پھر یہ عورت اس دوسرے شوہر کی  عدت گزار کر پہلے شوہر سے نکاح کرسکتی ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"و أما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، و زوال حل المحلية أيضًا حتى لايجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل: {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة".

(3/187، فصل في حكم الطلاق البائن، کتاب الطلاق، ط؛ سعید)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144211201138
تاریخ03-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں