بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گائےکا ایک تھن نہ ہو یا خراب ہو تو اس کی قربانی کا حکم

سوال

 گائے کا ایک تھن ختم ہے قربانی ہوسکتی ہے ؟ بحوالہ جواب درکار ہے ؟

جواب

بڑے جانور مثلا گائے، بھینس یا اوٹنی کے چار   تھنوں میں  سے صرف ایک تھن نہ ہو، یا خراب ہوگیا ہو، یعنی  خشک  ہوگیا یا کٹ گیا ہو، تو اس کی قربانی جائز ہے، اور اگر چار میں سے دو تھن نہ ہوں یا خراب ہوگئے ہوں تو اس جانور کی قربانی جائز نہیں ہوگی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6 / 324):

"(والجذاء) مقطوعة رءوس ضرعها أو يابستها، ولا الجدعاء: مقطوعة الأنف، ولا المصرمة أطباؤها: وهي التي عولجت حتى انقطع لبنها."

وفي الرد:

"... وفي الخلاصة: مقطوعة رءوس ضروعها لا تجوز، فإن ذهب من واحدة أقل من النصف فعلى ما ذكرنا من الخلاف في العين والأذن. وفي الشاة والمعز إذا لم يكن لهما إحدى حلمتيهما خلقة أو ذهبت بآفة وبقيت واحدة لم يجز، وفي الإبل والبقر إن ذهبت واحدة يجوز أو اثنتان لا اهـ وذكر فيها جواز التي لاينزل لها لبن من غير علة. وفي التتارخانية: والشطور لاتجزئ، وهي من الشاة ما قطع اللبن عن إحدى ضرعيها، ومن الإبل والبقر ما قطع من ضرعيها لأن لكل واحد منهما أربع أضرع."

فقط والله اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144211201133
تاریخ03-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں