بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اذان میں تجوید کی غلطی

سوال

 اگر مؤذن اذان کے الفاظ کی ادائیگی صحیح تجوید کے ساتھ ادا نہیں کرتا تو کیا اذان ہو جائے گی؟کیا اس کی اصلاح ضروری نہیں؟

جواب

کلمات اذان میں اصول وقواعدِ تجوید کی رعایت رکھنا ضروری ہے،  البتہ اذان کے بعض کلمات  کی ادائیگی میں  کچھ توسع ہے، مثلا لفظ ”اللہ“ کے مد وغیرہ میں ،  لہذا اگر  اذان میں تجوید کی اس طرح غلطی کی جائے کہ معنی  بدل جائیں یا وہ کلمات عربیت سے نکل جائیں تو اس طرح کی غلطی جائز نہیں ہے، مؤذن کے لیے ان  چیزوں کی اصلاح ضروری ہے۔

باقی   اذان میں تجوید کی کس نوعیت کی غلطی ہوئی ہے، اس  کی تفصیل معلوم ہوئے بغیر اس اذان کا حتمی حکم نہیں بتایا جاسکتا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1 / 387):

" وَلَا لَحْنَ فِيهِ) أَيْ تَغَنِّي بِغَيْرِ كَلِمَاتِهِ فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ فِعْلُهُ وَسَمَاعُهُ كَالتَّغَنِّي بِالْقُرْآنِ وَبِلَا تَغْيِيرٍ حَسَنٌ، وَقِيلَ لَا بَأْسَ بِهِ فِي الْحَيْعَلَتَيْنِ (وَيَتَرَسَّلُ فِيهِ) بِسَكْتَةٍ بَيْنَ كُلِّ كَلِمَتَيْنِ. وَيُكْرَهُ تَرْكُهُ، وَتُنْدَبُ إعَادَتُهُ

(قَوْلُهُ: بِغَيْرِ كَلِمَاتِهِ) أَيْ بِزِيَادَةِ حَرَكَةٍ أَوْ حَرْفٍ أَوْ مَدٍّ أَوْ غَيْرِهَا فِي الْأَوَائِلِ وَالْأَوَاخِرِ قُهُسْتَانِيٌّ.

(قَوْلُهُ: وَبِلَا تَغْيِيرٍ حَسَنٌ) أَيْ وَالتَّغَنِّي بِلَا تَغْيِيرٍ حَسَنٌ، فَإِنَّ تَحْسِينَ الصَّوْتِ مَطْلُوبٌ، وَلَا تَلَازُمَ بَيْنَهُمَا بَحْرٌ وَفَتْحٌ.

(قَوْلُهُ: وَقِيلَ) أَيْ قَالَ الْحَلْوَانِيُّ: لَا بَأْسَ بِإِدْخَالِ الْمَدِّ فِي الْحَيْعَلَتَيْنِ؛ لِأَنَّهُمَا غَيْرُ ذِكْرٍ، وَتَعْبِيرُهُ بِلَا بَأْسَ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الْأَوْلَى عَدَمُهُ." 

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144211201095
تاریخ03-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں