بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تقسیم ترکہ شوہر والد والدہ ایک بیٹا 4 بیٹیاں

سوال

فتوی نمبر144211200135 کے متعلق سوال ہے کہ مرحومہ کا  ترکہ تقسیم ہونے سے قبل مرحومہ کا ایک بیٹا فوت ہو گیا جو کہ ایک مہینہ کا تھا، اب ترکہ کی تقسیم کس طرح ہوگی، جب کہ ورثاء کی تفصیل یہ ہے:

ماں اور  باپ، شوہر،  2بیٹے   ( جن میں سے ایک بیٹا فوت  ہوگیا ہے) 4بیٹیاں اور ایک بھائی  اور  ایک بہن ہے۔

جواب

صورتِ  مسئولہ  میں مرحومہ  کے کل ترکہ کو  96 حصوں میں تقسیم کرکے  34 حصے شوہر کو، 16 حصے والد کو، 16 حصے والدہ کو، 10 حصے مرحومہ کےایک  زندہ   بیٹے کو، اور 5 حصے ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔

یعنی  100 روپے میں سے 35 روپے 42 پیسے مرحومہ   کے شوہر کو، 16 روپے 66 پیسے والد کو، 16 روپے 66 پیسے والدہ  کو، 10 روپے 42 پیسے  ایک  زندہ بیٹے کو، اور 5 روپے 21 پیسے ہر ایک بیٹی کو ملیں گے، جب کہ مرحومہ کے بھائی بہن، والد کے حیات ہونے کے سبب محروم رہیں گے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144211201089
تاریخ01-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں