بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سات ماہ کا مردہ بچہ پیدا ہونے کی صورت میں اس کو غسل دینا

سوال

اگر سات ماہ کا بچہ ماں کے پیٹ میں مردہ پیدا ہو تو اس کے غسل کا کیا حکم ہے، کیا اسے غسل دیا جائے گا کہ نہیں؟

جواب

صورتِ  مسئولہ  میں  مذکورہ  سات ماہ کا  بچہ جس کی پیدائش  کے وقت اس میں زندگی کی کوئی علامت نہیں تھی تو ایسے   بچے  کا حکم  یہ  ہے کہ اسے غسل  دے کر کسی کپڑے میں لپیٹ کر   دفنایا جائے۔  لیکن  اس کو  باقاعدہ مسنون کفن دینا ضروری نہیں ہے اور  اس  کی  جنازہ  کی نماز  بھی نہیں پڑھی  جائے گی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (2/ 228) :

"(وإلا) يستهل (غسل و سمي) عند الثاني، وهو الأصح، فيفتى به على خلاف ظاهر الرواية إكراماً لبني آدم، كما في ملتقى البحار. وفي النهر عن الظهيرية: وإذا استبان بعض خلقه غسل وحشر هو المختار (وأدرج في خرقة ودفن ولم يصل عليه)" .

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144211201079
تاریخ01-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں