بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قربانی کے ساتھ ہی عقیقہ کرنا

سوال

میرے یہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی ہے اور مجھے عقیقہ کرنا ہے، کیا میں عید الاضحی (جو کہ تقریباً تین ہفتوں بعد ہے) میں قربانی کے ساتھ حصہ ڈال کر کرسکتاہوں یا ساتویں دن 2 بکرے ہی کرنا سنت ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں عید الاضحی کی قربانی  کے ساتھ بڑے جانور میں  عقیقے کے لیے الگ سے دو حصے ڈال کر عقیقہ کرنے سے عقیقے کی سنت ادا ہوجائے گی۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ عقیقہ پیدائش کی  ساتویں، یا چودھویں یا اکیسویں تاریخ کو کیا جائے؛ لہذا اگر عید الاضحی کے تین دنوں میں سے کوئی دن پیدائش کی اکیسویں تاریخ کو آرہا ہو تو اس دن کرلینا زیادہ بہتر ہے۔

فتاوی شامی میں ہے :

"وكذا لو أراد بعضهم العقيقة عن ولد قد ولد له من قبل؛ لأن ذلك جهة التقرب بالشكر على نعمة الولد ذكره محمد".

(6/ 326، کتاب الاضحیة، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144211201068
تاریخ01-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں