بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ اور بیٹے اور بیٹیوں کا والد کے ترکہ میں کتنا حق ہے؟

سوال

 والد مرحوم کے ترکہ میں بیوہ اور بیٹے  بیٹیوں کا کیا حصہ ہوتا ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں مرحوم کے ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کے آٹھویں حصہ کی حق دار اس کی بیوہ ہوگی، جب کہ بقیہ ترکہ ایک اور آدھے کے تناسب سے بیٹے اور بیٹیوں میں تقسیم کیا جائے گا۔

مکمل شرعی تقسیم معلوم کرنا اگر مطلوب ہو تو بیٹے اور بیٹیوں کی مکمل تفصیل لکھ کر سوال دوبارہ ارسال کردیا جائے، نیز اگر مرحوم کے والدین حیات ہیں تو سوال میں اس کی وضاحت بھی کردیجیے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144211201042
تاریخ30-06-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں