بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چار ماہ کے ادھار پر سونا خریدنا

سوال

مجھے سونا لینا ہے،  لیکن میرے پاس پیسے نہیں، میں تین چار ماہ کے ادھار پر سونا لے سکتا ہوں، یعنی سونا ابھی لوں اور پیسے چار ماہ بعد دوں، کیا ایسا کرنا جائز ہے؟

جواب

سونے کی خرید و فروخت میں سودا نقد کرنا شرعًا  ضروری ہوتا ہے، لہذا صورتِ  مسئولہ میں سونا ادھار خریدنا جائز نہ ہوگا،  البتہ اس کی  ایک جائز صورت  یہ اختیار  کی جاسکتی ہے کہ آپ دوکاندار سے قرضہ لے کر سونے کی قیمت خریداری کے وقت ادا کردیں، اور چار ماہ بعد دوکاندار کو قرضہ چکا دیں۔

مزید تفصیل کے لیے دیکھیے:

اُدھار پر سونا چاندی کی خرید وفروخت!

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144211201034
تاریخ30-06-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں