بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رشتہ کے ماموں اور کزن سے نکاح کا حکم

سوال

 میرے والدصاحب اور میرے ناناجان  آپس میں  سیکنڈ کزن ہیں، یعنی ان کے پردادا  ایک ہیں اور ان دونوں کے دادا سگے  بھائی تھے۔

میرا سوال یہ ہے کہ میری والدہ صاحبہ کے  چچا کے بیٹے رشتہ میں میرےکیا لگتے ہیں؟

کیا وہ میرے ماموں ہیں (کیوں کہ وہ میری والدہ صاحبہ کے چچا کے بیٹے ہیں )؟ یا وہ میرےکزن ہیں(کیوں کہ میرے والدصاحب کے سیکنڈ کزن کے بیٹے ہیں)؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں دونوں رشتہ قائم ہیں، یعنی والدہ کی طرف سے رشتہ کے  ماموں کا  تعلق ہے، جب کہ والد کی طرف سے کزن کا رشتہ ہے، بہر صورت  ایسے رشتہ میں مناکحت جائز ہے، یعنی سائل کی بہنوں کے  لیے وہ   محرم  شمار  نہ ہوں گے، بشرطیکہ رضاعت ، یا مصاہرت کا تعلق نہ ہو۔

محارم میں ماموں وغیرہ سے مراد وہ ہیں جو والد کے سگے  یا باپ شریک یا ماں شریک بھائی ہوں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144211201032
تاریخ30-06-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں