بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صابن کا نام "ایمان" رکھنا

سوال

ہمارا کاروبار ہے صابن کی سپلائی کرنا (ایمان صابن)تو لوگ اعتراض کرتے ہے کہ صابن کو  "ایمان"  نام دینا مناسب نہیں  ہے، شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

 کسی پراڈکٹ کا  لغوی معنی کے اعتبار سے  ”ایمان“ نام  رکھنے کی اگرچہ گنجائش ہوسکتی ہے، لیکن  "ایمان"  ایک اصطلاحی لفظ ہے جو  ایک خاص مفہوم رکھتا ہے اور   اس لفظ کے ساتھ عرفاً مذہبی جذبات وابستہ ہیں، اور کسی وقت اس پراڈکٹ کی عدم موجودگی میں  اگر یہ کہا جائے کہ ”ایمان“ موجود نہیں ہے  یا اس کے علاوہ دیگر جملے کہے جائیں تو   اس میں بدفالی کا بھی شائبہ ہے ، لہذا صابن وغیرہ کا     یہ نام رکھنے  سے اجتناب کیا جائے۔

صحيح مسلم (3 / 1685):

" حدثنا أحمد بن عبد الله بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا منصور، عن هلال بن يساف، عن ربيع بن عميلة، عن سمرة بن جندب، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أحب الكلام إلى الله أربع: سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله أكبر. لايضرك بأيهن بدأت "  "و لاتسمين غلامك يسارًا، ولا رباحًا، ولا نجيحًا، ولا أفلح، فإنك تقول: أثم هو؟ فلايكون فيقول: لا،  إنما هن أربع فلاتزيدن علي."

فقط واللہ  اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144211200989
تاریخ29-06-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں