بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سارہ نام

سوال

میں اپنی بیٹی کا نام "سارہ"  رکھنا چاہتا ہوں، اس نام کا معنیٰ کیا ہے؟ اورعربی  و اردو  میں اس کو کیسے لکھا جائے گا؟  اور یہ بھی بتا دیں کہ انگریزی میں sara ہے یا sarah ہے؟

جواب

"سارہ" حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اہلیہ، جو کہ حضرت اسحاق علیہ السلام کی والدہ تھیں، کا نام تھا، ان کی نسبت سے یہ نام رکھنا درست ہے اور یہی نسبت نام رکھنے کے لیے کافی ہے، معنیٰ دیکھنے کی ضرورت نہیں۔

اردو اور عربی میں  اسے "سارہ"  لکھا جائے گا اور  انگریزی میں اس کو "Sarah"  لکھا جائے گا۔

فتح الباري لابن حجر (12/ 379):

"وأخرج الطبري من طريق السدي قال: انطلق إبراهيم من بلاد قومه قبل الشام فلقي سارة وهي بنت ملك حران فآمنت به فتزوجها فلما قدم مصر وهبها الجبار هاجر و وهبتها له سارة و كانت سارة منعت الولد و كان إبراهيم قد دعا الله أن يهب له ولدًا من الصالحين فأخرت الدعوة حتى كبر فلما علمت سارة أن إبراهيم وقع على هاجر حزنت على ما فاتها من الولد ثم ذكر قصة مجيء الملائكة بسبب إهلاك قوم لوط وتبشيرهم إبراهيم بإسحاق فلذلك قال إبراهيم: {الحمد لله الذي وهب لي على الكبر إسماعيل وإسحاق}."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144211200940
تاریخ29-06-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں