رخصتی سے پہلے خلع کی صورت میں عدت کا حکم
سوال
نکاح کے بعد رخصتی سے پہلے خلع کی نوبت آجائے تو عدت ہوگی کہ نہیں؟
جواب
اگر رخصتی سے پہلے خلوتِ صحیحہ بھی نہیں ہوئی تھی اور طلاق یا خلع ہوجائے تو اس صورت میں شرعاً عدت لازم نہیں ہوتی۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(وَإِنْ فَرَّقَ) بِوَصْفٍ أَوْ خَبَرٍ أَوْ جُمَلٍ بِعَطْفٍ أَوْ غَيْرِهِ (بَانَتْ بِالْأُولَى) لَا إلَى عِدَّةٍ (وَ) لِذَا (لَمْ تَقَعْ الثَّانِيَةُ)".
(3/286، با ب طلاق غیر المدخول بها، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
144211200937
تاریخ29-06-2021

