بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حمام میں کپڑے لٹکانا

سوال

کیا حمام میں کپڑے لٹکانا جائز ہے؟

جواب

حمام یا باتھ روم میں کپڑے لٹکانے میں شرعاً کوئی حرج نہیں، ضرورت کے موقع پر کپڑے لٹکائے جا سکتے ہیں اور جب تک باتھ روم کی دیواروں پر یقینی طور پر کوئی نجاست نہ لگی ہوئی ہو اور  کپڑے اس کے ساتھ لگنے سے اس نجاست کا اثر کپڑوں میں نہ آجائے، اس وقت تک کپڑے ناپاک بھی  نہیں ہوں گے، اس لیے اس میں حرج محسوس نہ کرنا چاہیے، بس یہ خیال رہے کہ حمام میں ایسی جگہ کپڑے   نہ لٹکائے جائیں جہاں ناپاکی کی چھینٹیں آنے کا اندیشہ ہو۔ فقط واللہ اعلم

 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144211200935
تاریخ29-06-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں