بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مدتِ رضاعت میں دوسرا بچہ ہوجائے

سوال

 مدتِ  رضاعت کیاہے؟

اگرمدتِ  رضاعت میں دوسرے بچےکی ولادت ہوجائے تو اس کو دودھ پلانا کیسا ہے؟

جواب

1 : رضاعت کی مدت  دو سال ہے ، خواہ لڑکا ہو یا لڑکی،  دو سال کے بعد دودھ پلانا جائز نہیں ہے،  لیکن ڈھائی سال کے اندر اندر دودھ پلادیا تو اس سے حرمتِ  رضاعت ثابت ہوجائے گی۔ (فتاوی رحیمیہ 8/249) 

2 : شرعی لحاظ سے دونوں بچوں کو دودھ پلانا جائز ہے۔ طبی حیثیت سے کسی ماہرِ طب سے رائے لینا بہتر ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144211200877
تاریخ28-06-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں