بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اگربیٹی دوں تو بیوی دوں گا، کہنے کا حکم

سوال

 ایک شخص اپنی بیٹی کا نکاح کرواچکا ہے،  البتہ رخصتی نہیں ہوئی ہے۔  اب وہ شخص کہتا ہے بیٹی کے سسرالیوں سے کہ اگر میں تمہیں اپنی بیٹی دوں گا تو اپنی بیوی دوں گا۔ اس جملے کا کیا حکم ہے؟کیا یہ قسم ہے؟اگر قسم ہے تو قسم کی کون سی قسم ہے؟ اور اس جملے سے بظاہر اس کا مقصد اپنی ناراضی کا اظہار کرنا اور بیٹی کی رخصتی نہ کرنا تھا۔

جواب

صورتِ  مسئولہ میں مذکورہ الفاظ قسم کے نہیں ہیں، محض بیٹی کی رخصتی نہ کرنے کے عزم کا اظہار ہے۔ البتہ اس طرح کے الفاظ کا استعمال مناسب نہیں اور  جذبات میں ایسی بات بولنے سے احتراز کرنا چاہیے،  جس سے میاں بیوی کی زندگی خراب ہونے کا اندیشہ ہو۔ بہتر ہے کہ ایسے لوگ  علاقے کے صلحاء و علماء کی طرف رجوع کرکے اپنا مسئلہ حل کریں۔ 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3 / 704):

" و ركنها اللفظ المستعمل فيها."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144211200872
تاریخ28-06-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں