بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سات دن سے پہلے بچی کا انتقال ہوجائے تو اس کا عقیقہ کرنا

سوال

میری بیٹی کی ولادت ہوئی اور اس کا دو دن میں انتقال ہو گیا تو کیا اس کا عقیقہ کرنا چاہیے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ ساتویں دن سے پہلے اگر بچے یا بچی کا انتقال ہوجائے تو اس کا عقیقہ کرنا مستحب ہے۔

لہذا صورتِ  مسئولہ میں آپ کا اپنی بیٹی کا عقیقہ کرنا مستحب ہے۔

اعلاء السنن میں ہے: 

"و لو مات المولود قبل السابع استحبّ العقیقة عندنا."

(کتاب الذبائح باب افضلیة ذبح الشاة فی العقیقة) (17/126)

المجموع شرح المہذب (8/432): 

"لو مات المولود قبل السابع استحبّت العقیقة عندنا، و قال الحسن البصري و مالك: لاتستحبّ."

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144211200804
تاریخ27-06-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں