بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حمل کی جنس معلوم کرنا

سوال

پیدائش سے پہلے بچے کی جنس کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

بچے  کی  جنس معلوم کرنے کے لیے چوں کہ عموماً  الٹراساؤنڈ  کیا جاتا ہے،  اور اس کا حکم یہ ہے کہ اگر کسی طبی ضرورت کے لیے الٹرا ساؤنڈ کرایا گیا ہو اور اسی کے دوران بچہ کی جنس بھی معلوم کرلی جائے تو اس میں حرج نہیں، بشرطیکہ الٹرا ساؤنڈ کرنے والی عورت ہو۔

لیکن صرف بچے کی جنس معلوم کرنے کے لیے الٹرا ساؤنڈ کرانا ایک غیر ضروری و نا پسندیدہ عمل ہے،  بچے کی جو بھی جنس ہو ، وہ  دنیا میں آکر ہی رہے گا، پہلے سے جنس معلوم کرنے کے باوجود اس کی تخلیق میں کسی قسم کی تبدیلی ممکن ہے، اس عبث و بے کار عمل سے اجتناب کرنا چاہیے، اس کے ساتھ ساتھ الٹرا ساؤنڈ کرانے کے لیے خاتون کو اپنا ستر کھولنا پڑتا ہے، اور ضرورتِ شدیدہ کے بغیر کسی کے سامنے ستر کھولنا از روئے شرع جائز نہیں ہے، لہذا بچہ کی جنس معلوم کرنے کے لیے خاص طور پر الٹرا ساؤنڈ کرانے کی اجازت نہیں۔ 

"(وَرَجُلٌ يُدَاوِيهَا فَيَنْظُرُ إلَى مَوْضِعِ مَرَضِهَا بِقَدْرِ الضَّرُورَةِ)، وَيَنْبَغِي أَنْ يُعَلِّمَ امْرَأَةً مُدَاوَاتَهَا؛ لِأَنَّ نَظَرَ الْجِنْسِ إلَى الْجِنْسِ أَخَفُّ، أَلَا يُرَى أَنَّ الْمَرْأَةَ تُغَسِّلُ الْمَرْأَةَ بَعْدَ مَوْتِهَا دُونَ الرَّجُلِ".

[درر الحكام : ١/ ٣١٤]

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144211200771
تاریخ26-06-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں