بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 جُمادى الأولى 1448ھ 02 نومبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بسم اللہ کی تقریب کا حکم

سوال

ہمارے  یہاں بچوں کے چار سال  کے ہونے پر یا اسی عمر  کے آس پاس تقریبِ بسم اللہ کروائی جاتی ہے ،  برائے کرم اس تقریب کی شرعی حیثیت رسول اللہ  ﷺ  یا صحابہ رضوان اللہ تعالی  علیہم اجمعین کی زندگی  کی روشنی میں بیان فرمادیں اور ان تقریبات میں شرکت کا بھی حکم بیان فرمائیں!

جواب

صورتِ  مسئولہ میں مروجہ  "بسم اللہ   کی تقریب "، اگر لازم و سنت سمجھے بغیر محض  بچے  کی حوصلہ افزائی کے  لیے کی جائے تو اس کی اجازت ہوگی،  تاہم  اگر اسے  لازم یا سنت سمجھ کر کیا جائے، یا فضول خرچی و اسراف اور دکھلاوے کی غرض سے کی جائے تو اس کی شرعًا اجازت  نہ  ہوگی۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144211200705
تاریخ24-06-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں