بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ریان کا مطلب

سوال

ریان کا مطلب کیا ہے؟

جواب

"ریان" را کے زبر ،یا کی تشدید اور زبر کے ساتھ ہے، اس کا معنی "سیراب کرنے والا "ہے، "ریان" جنت کا ایک خاص دروازہ ہے جس سے صرف روزہ دار داخل ہوں گے۔

اگر سوال سے مقصود "ریان" نام رکھنے کا حکم دریافت کرنا ہے تو "ریان"  نام  رکھ  سکتے  ہیں۔

"عن سهل بن سعد رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « إن في الجنة باباً يقال له: "الريان"، يدخل منه الصائمون يوم القيامة، لايدخل معهم أحد غيرهم، يقال: أين الصائمون؟ فيدخلون منه، فإذا دخل آخرهم أغلق فلم يدخل منه أحد »."

(صحیح مسلم،باب فی فضل الصیام:۳ /۱۵۸،رقم الحدیث:۲۷۶۶،دارالجیل بیروت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144211200641
تاریخ23-06-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں