بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قربانی کے جانور کو ایامِ قربانی میں قربان نہ کر سکا تو کیا حکم ہے؟

سوال

کسی شخص نے قربانی کے غرض سے جانور خریدا،مگر حالات کی نازکی کے سبب وہ قربانی کے ایّام میں وہ قربانی نہ کر سکا تو بعد میں اس قربانی کے جانور کا کیا کیا جا سکتا ہے؟

جواب

اگر کسی شخص نے قربانی کا جانور خرید لیا ہو اور اس کو قربان نہ کر سکا ہو تو ایسے شخص کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ زندہ جانور صدقہ کر دے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 321):

"إذا أوجب شاةً بعينها أو اشتراها ليضحي بها فمضت أيام النحر قبل أن يذبحها تصدق بها حية، و لايأكل من لحمها لأنّه انتقل الواجب من إراقة الدم إلى التصدق."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144211200633
تاریخ23-06-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں