بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز کا وقت نکل رہا ہو اور بچہ گود میں سو رہا ہو تو نماز کیسے ادا کی جائے؟

سوال

اگر نماز  کا وقت نکل رہا ہو اور  بچہ گود میں سو رہا ہو تو نماز  کیسے ادا کی جاۓ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں بچے کو بستر پر سلا کر یا کسی اور کے حوالے کرکے نماز پڑھی  جائے  اور اگر کوئی ایسی صورت ممکن ہو ،جس میں کہ بچے کو  جسم سے باندھ کر نماز پڑھی جاسکے اور رکوع اور سجدہ کیا جا سکےاور ہاتھ سے اس کو پکڑنا نہ پڑے  تو  اس طرح سے بھی نماز ہو جائے گی۔ البتہ پہلے ہی سے اس کا اہتمام کرنا چاہیے کہ بچے کو ایسے وقت میں سلا دیا جائے کہ اس کے بعد یا اس سے پہلے نماز پڑھی جا سکے۔

الفتاوى الهندية  (1/ 62):

"في النصاب: رجل صلّى وفي كمّه قارورة فيها بول لاتجوز الصلاة سواء كانت ممتلئةً أو لم تكن؛ لأن هذا ليس في  مظانه  ومعدنه بخلاف البيضة المذرة؛ لأنه في معدنه ومظانه وعليه الفتوى. كذا في المضمرات".

الفتاوى الهندية (1/ 107):

"صلى وهو حامل صبيًّا جازت صلاته ويكره ولو لم يكن هناك من يحفظه ويتعهده وهو يبكي فلايكره، هكذا في محيط السرخسي."

فقط و اللہ  اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144211200598
تاریخ22-06-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں