بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

’’عبد المحسن‘‘ نام رکھنے کا حکم

سوال

شریعتِ  مطہرہ کی رو سے "عبدالمحسن" نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

متعدد روایات  سے  یہ بات ثابت ہے کہ ’’المحسن‘‘ بھی اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے ہے اور اس کا معنیٰ ہے’’ احسان کرنے والا‘‘؛  اس لیے ’’عبد المحسن‘‘ نام رکھنا درست ہے۔

مصنف عبد الرزاق الصنعاني (4/ 492):

’’ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنَعَانِيِّ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اثْنَتَيْنِ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ مُحْسِنٌ يُحِبُّ الْإِحْسَانَ إِلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ».‘‘

الجامع الصحيح للسنن والمسانيد (10/ 184):

’’ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: (" إِنَّ اللهَ مُحْسِنٌ يُحِبُّ الْإِحْسَانَ).‘‘

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144211200468
تاریخ20-06-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں