بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

’’ام رومان‘‘ نام کا مطلب اور رکھنے کا حکم

سوال

’’ام رومان‘‘ نام کا مطلب کیا ہے؟ کیا اپنی بیٹی کا نام ’’ام رومان‘‘ رکھ سکتے  ہیں؟


جواب

’’ام رومان‘‘  کا مطلب رومان کی  ماں  ہے، ام رومان بنت عامر رضی اللہ عنہا حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی اہلیہ اور ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی والدہ کا نام ہے ، تاریخ میں اس کے علاوہ ان کا کوئی اور نام نہیں ملتا؛ لہذا ان کی نسبت سے  لڑکی کا نام ’’ام رومان‘‘  رکھنا درست ہے۔

 تهذيب الكمال للحافظ المزي   میں ہے:

"أم رومان بنت عامر الفراسية الكنانية، امرأة صالحة من الصحابيات وهي زوجة أبي بكر الصديق ووالدة أم المؤمنين عائشة بنت أبي بكر وعبد الرحمن بن أبي بكر. أسلمت بمكة المكرمة بعد أبي بكر وبايعت وهاجرت إلى المدينة المنورة وفيها توفيت." ( ٣٥/ ٣٥٩)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144211200463
تاریخ20-06-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں