بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مہر فاطمی کی مقدار

سوال

مہر فاطمی کی مقدار کتنی ہے ؟ سونے ،چاندی اور رقم تینوں میں بتا کر عند اللہ ماجور ہوں!

جواب

مہر فاطمی کی مقدار احادیث میں ساڑھے بارہ اوقیہ منقول ہے، اور ایک اوقیہ چالیس درھم کا ہوتا ہے،  اس حساب سے مہر فاطمی کی مقدار پانچ سو درھم  چاندی بنتی ہے،  موجودہ دور کے حساب سے اس کی مقدار ایک سو اکتیس تولہ تین ماشہ چاندی ہے، اور گرام کے حساب سے 1.5309 کلو گرام چاندی ہے۔  مہرفاطمی کی سنت پر عمل کرنے کے لیے بہتر تو یہ ہے کہ اتنی مقدار چاندی دی جائے، لیکن  اگر چاندی نہ دی جائے تو نکاح نامے پر یہ الفاظ لکھ دیے جائیں کہ "مہر فاطمی بصورتِ سونا یا بصورتِ نقد"، اور  پھر مہرفاطمی کی مالیت کے بقدر ہی سونا یا نقدی دی جائے تو مہر فاطمی کی سنت ادا ہوجائے گی۔ فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144211200376
تاریخ19-06-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں