بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

’’راحم‘‘ نام کا مطلب اور رکھنے کا حکم

سوال

ہم نے اپنے  بھانجے کا نام "راحم"  رکھا  ہے، اس بارے راہنمائی فرمائیں!

جواب

’’راحم‘‘  کے معنی مہربان، رحم کرنے والے کے آتے ہیں، اس معنی کے اعتبار سے ’’راحم‘‘ نام رکھنا درست ہے۔

تاج العروس (32/ 234):

’’والرحيم قد يكون بمعنى المرحوم كما يكون بمعنى الراحم، قال عملس ابن عقيل: (فأما إذا عضت بك الحرب عضة ... فإنك معطوف عليك رحيم).‘‘

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144211200271
تاریخ16-06-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں