بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیٹوں کی موجودگی میں پوتوں کا حصہ

سوال

بیٹوں کے ہوتے ہوئے پوتوں کو وراثت میں حصہ ملے گا ؟

 

جواب

بیٹوں کی موجودگی میں پوتوں کو دادا کی جائیداد میں سے حصہ نہیں ملتا ہے،  البتہ آدمی کے لیے اپنے مال میں ایک تہائی ترکہ تک وصیت کی شرعاً اجازت ہوتی ہے، لہٰذا پوتوں کے ضرورت مند ہونے کی صورت میں دادا کو ایسے پوتوں اور پوتیوں کے حق میں ایک تہائی کے اندر اندر کچھ وصیت کر کے جانا چاہیے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 774):

’’ ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب فيقدم جزء الميت (كالابن ثم ابنه وإن سفل۔

(قوله: ويقدم الأقرب فالأقرب إلخ) أي الأقرب جهة ثم الأقرب درجة ثم الأقوى قرابة فاعتبار الترجيح أولا بالجهة عند الاجتماع، فيقدم جزؤه كالابن وابنه على أصله كالأب وأبيه ويقدم أصله على جزء أبيه كالإخوة لغير أم وأبنائهم، ويقدم جزء أبيه على جزء جده كالأعمام لغير أم وأبنائهم وبعد الترجيح بالجهة إذا تعدد أهل تلك الجهة اعتبر الترجيح بالقرابة، فيقدم الابن على ابنه والأب على أبيه والأخ على ابنه لقرب الدرجة، وبعد اتحاد الجهة والقرابة يعتبر الترجيح بالقوة، فيقدم الأخ الشقيق على الأخ لأب، وكذا أبناؤهم، وكل ذلك مستفاد من كلام المصنف.‘‘

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144211200259
تاریخ16-06-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں