بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

منکوحہ سے زنا کے بعد عدت میں اس سے نکاح کرنا

سوال

شادی  شدہ لڑکی زنا سے حاملہ ہوئی،  اس کا  نکاح بغیر عدت کے زنا کرنے والے  کے  ساتھ  هو سکتا  هے،  پہلے خاوند  نے اس کو طلاق دی  هے؟

جواب

زنا کرنا حرام اور کبیرہ گناہ ہے، اور کسی کے نکاح میں ہوتے ہوئے اس طرح کی غلط کاری کی حرمت ، قباحت اور شناعت اور بھی زیادہ ہوجاتی ہے،  لہذا مذکورہ لڑکی اور زانی کا یہ عمل ناجائز اور حرام تھا، ان دونوں پر  صدقِ دل سے توبہ واستغفار لازم ہے۔

بعد ازاں اگر شوہر نے  اس عورت کو  طلاق دے دی اور وہ عورت حاملہ ہے   تو اس پر   عدت گزارنا لازم ہے، اور اس کی عدت اس وقت ختم ہوگی  جب بچے کی ولادت ہوجائے گی اور  شوہر کی عدت کے دوران  زانی یا کسی بھی شخص سے نکاح کرنا جائز  نہیں ہوگا اور  نہ  ہی ایسا نکاح منعقد ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3 / 517):

" أمَّا مَنْكُوحَةُ الْغَيْرِ فَهِيَ غَيْرُ مَحَلٍّ إذْ لَايُمْكِنُ اجْتِمَاعُ مِلْكَيْنِ فِي آنٍ وَاحِدٍ عَلَى شَيْءٍ وَاحِدٍ، فَالْعَقْدُ لَمْ يُؤَثِّرْ مِلْكًا فَاسِدًا."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144211200229
تاریخ15-06-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں