بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گابھن جانورکو فروخت کرکے دوسرا ذبح کرنا

سوال

اگر قربانی  کا جانور خرید نے کے بعد اس  کے پیٹ میں بچہ ظاہر ہو تو اس کو فروخت کرکے دوسرا ذبح کر نا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

جس جانور کے پیٹ میں بچّہ ہو (زندہ یا مردہ) اس کا ذبح کرنا جائز ہے، البتہ جان بوجھ کر ولادت کے قریب جانور کوذبح کرنا مکروہ ہے، اوراگر یہ جانور قربانی کا ہے تو ذبح کے بعد جو بچہ نکلےاس کو بھی ذبح کیا جائے گا، اور اس کا کھانا حلال ہے، اور اگر مردہ نکلے تو اس کا کھانا درست نہیں۔اگر قربانی کے جانور خرید نےکے  بعد اس کے پیٹ میں بچہ ظاہر ہو تو مال دار  (جس پر قربانی فرض ہے)شخص  کے لیے  اس کو فروخت کرکے دوسرا ذبح کر نا  بھی جائز ہے، البتہ یہ ضروری ہوگا کہ دوسرا جانور پہلے جانور سے کم قیمت کا نہ ہو، اگر اس سے کم قیمت کا جانور لیا تو درمیان میں قیمت کا جو فرق ہوگا، وہ صدقہ کرنا ضروری ہوگا۔

الفتاوى الهندية (5/ 287):

’’شاة أو بقرة أشرفت على الولادة، قالوا: يكره ذبحها؛ لأن فيه تضييع الولد‘‘.

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144211200223
تاریخ15-06-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں