بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عدتِ طلاق گزرتے ہی اگلے دن نکاح کرنے کا حکم

سوال

ایک عورت کو طلاق کے  دوسرے دن یکم محرم سے سات محرم تک پہلا ، اٹھائیس محرم سے  چار صفر تک دوسرا  اور پچیس صفر سے دو ربیع الاول تک تیسرا حیض ہوا،  یعنی اس کی عدت دو ماہ بنتی ہے ،  اب کیا وہ تین ربیع الاول کو نکاح کر سکتی ہے ؟

جواب

مطلقہ کی عدت  چوں کہ کامل تین حیض ہوتی  ہے اور سوال میں جو  صورت ذکر کی گئی ہے، اس صورت میں مذکورہ مطلقہ خاتون کے طلاق کے بعد تین حیض دو  ربیع الاول کو مکمل ہو گئے ہیں؛ لہٰذا اس کے بعد تین ربیع الاول کو اس کے لیے نکاح کرنا جائز ہے۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144211200173
تاریخ14-06-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں