بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بینک ملازم کو مال بیچنا اور اس سے رقم لینا

سوال

میری  کریانہ  کی دکان ہے، اگر کوئی  ایسا شخص جو بینک میں کام کرتا ہو وہ سامان خریدنے آجائے اور مجھے پورا یقین ہے کہ اس کے پاس حرام مال ہے تو اس کو سودا  دےکر جو پیسے وہ دے گا اس کو لینا اور ذاتی ضروریات میں خرچ کرنا کیسا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ بینک ملازم اگر رقم کی ادائیگی کے وقت رقم کی حرمت کی صراحت  نہ کرتا ہو  (یعنی یوں نہ کہے کہ یہ رقم میں حرام مال سے ہی ادا کر رہاہوں) تو اس کو سودا بیچ کر اس سے رقم وصول  کرنا اور اس کو اپنے استعمال میں لانا آپ کے لیے جائز ہو گا۔

فتاوی شامی میں ہے: 

"رجل اكتسب مالًا من حرام ثم اشترى فهذا على خمسة أوجه: أما إن دفع تلك الدراهم إلى البائع أولا ثم اشترى منه بها أو اشترى قبل الدفع بها ودفعها، أو اشترى قبل الدفع بها ودفع غيرها، أو اشترى مطلقا ودفع تلك الدراهم، أو اشترى بدراهم أخر ودفع تلك الدراهم. قال أبو نصر: يطيب له ولا يجب عليه أن يتصدق إلا في الوجه الأول، وإليه ذهب الفقيه أبو الليث، لكن هذا خلاف ظاهر الرواية فإنه نص في الجامع الصغير: إذا غصب ألفا فاشترى بها جارية وباعها بألفين تصدق بالربح. وقال الكرخي: في الوجه الأول والثاني لا يطيب، وفي الثلاث الأخيرة يطيب، وقال أبو بكر: لا يطيب في الكل، لكن الفتوى الآن على قول الكرخي دفعا للحرج عن الناس اهـ. وفي الولوالجية: وقال بعضهم: لا يطيب في الوجوه كلها وهو المختار، ولكن الفتوى اليوم على قول الكرخي دفعا للحرج لكثرة الحرام."

(کتاب البیوع باب المتفرقات ج نمبر ۵ ص نمبر ۲۳۵،ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144211200133
تاریخ14-06-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں