بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پانچ تولہ سونے پر زکات کا حکم

سوال

زید کے پاس پانچ سے  ساڑھے پانچ تولہ سونا ہے، اس  کے علاوہ زید کے پاس نہ نقدی ہے اور نہ چاندی اور نہ کوئی اور مالیت ہے۔ کیاموجود ہ سونے پر زکات دینا زید پر واجب ہوگی؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر زید کے پاس پانچ یا ساڑھے پانچ تولہ سونے کے ساتھ نہ ہی نقدی ہے، نہ مالِ  تجارت ہے اور  نہ ہی چاندی تو اس صورت میں اس پر زکات  واجب نہ ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144211200126
تاریخ13-06-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں