بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کا مرد کے کپڑے سینا (سلائی کرنا)

سوال

کیا عورتیں مردوں کے کپڑے سلائی کر سکتی ہیں؟

جواب

عورت  مرد  کے  کپڑوں کی  سلائی کرسکتی  ہے  بشرطیکہ  ذہنی  کدورت یا قلبی فساد کا اندیشہ نہ ہو،  اگر کسی ایسے فتنے کاخوف ہو تو یہ دل و دماغ کا گناہ ہوگا۔البتہ یہ واضح رہے کہ سلائی کے لیے عورت کا اجنبی مرد کے جسم کا براہِ راست ناپ وغیرہ لینا بالکل ناجائز ہے ۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6 / 367):

"(إلا من أجنبية) فلايحل مس وجهها و كفّها وإن أمن الشهوة؛ لأنّه أغلظ."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144211200086
تاریخ13-06-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں