بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق معلق کی ایک صورت

سوال

 میں نے اپنی بیوی کو یہ کہا ہے کہ’’ اگر تو بقرعید سے پہلے میرے گھر آگئی تو تجھ کو تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی ‘‘تو برائے مہربانی مجھ کو کوئی ایسا راستہ بتائیں کے وہ یہاں میرے شہر میں میرے پاس آ جائے اور طلاق بھی واقع نہ  ہو۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے اپنی بیوی کو یہ الفاظ کہے کہ ’’ اگر تو بقر عید سے پہلے میرے گھر آگئی تو تجھ کو تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی ‘‘ تو ان الفاظ سے سائل کی بیوی کی تینوں طلاقیں بقر عید سے پہلے سائل کے گھر آنے پر معلق ہوگئیں ہیں ،اگر بقر عید سے پہلے بیوی سائل کے گھر آئے گی تو تینوں طلاقیں واقع ہوجائیں گی،لہذا بقر عید تک سائل کی بیوی سائل کے گھر نہ آئے ،اب یا تو سائل خود اس کےپاس چلاجائے یا اپنے شہر میں اپنے گھر کے علاوہ کسی اور گھر میں اس سے مل لے  یا سائل کے شہر میں اس کی بیوی کے کسی قابلِ اعتماد محرم کا گھر موجود ہو تو وہاں بلواکر عید تک قیام کروالے۔

وفي الفتاوى الهندية :

"وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق."

(1/ 420ط:دار الفكر)

وفي الدر المختار وحاشية ابن عابدين :

"(وتنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقًا) لكن إن وجد في الملك طلقت وعتق وإلا لا."

(رد المحتار3/ 355ط:سعيد)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144211200058
تاریخ12-06-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں