بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خود کشی کرنے والے کی نمازِ جنازہ

سوال

کیا خودکشی کرنے والے کے لیے نمازِ  جنازہ  پڑھ  سکتے  ہیں؟

جواب

خود کشی کرنا بہت ہی بڑا گناہ ہے، اور اس پر سخت عذاب کی وعیدیں آئی ہیں، لیکن خود کشی کرنے والا دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوتا، لہٰذا ایسے شخص کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی۔ البتہ علماء اور پیشوا حضرات کو  جنازہ میں شرکت نہیں کرنی چاہیے؛ تاکہ دیگر حضرات کو عبرت حاصل ہو۔

شامی میں ہے:

"من قتل نفسه ولو عمدًا یغسل ویصلی علیه. به یفتی. وإن کان أعظم وزرًا من قاتل غیره".

(۳/۱۰۲، باب صلاة الجنازة،الدرالمختار مع ردالمحتار، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144211200044
تاریخ12-06-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں