بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

والد کا بیٹے کی طرف سے مہر ادا کرنے کا حکم

سوال

نکاح کے وقت مہر کی رقم پانچ ہزار طے پائی اور رخصتی سے پہلے نکاح خواں نے ادا کرنے کا کہا،  جسے میرے والد نے ادا کر دیا،  اب رہنمائی چاہیے کہ وہ حق مہر ادا ہوگیا ہے یا مجھے بحیثیت شوہر پھر سے ادا کرنا ہوگا؟ اگر ادا نہیں ہوا تو جو ادا ہوا اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟  اور اس کا کیا کرنا چاہیے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب آپ کے والد نے آپ کی طرف سے مہر کے عنوان سے رقم ادا کر دی تو مہر کی ادائیگی درست ہو گئی، آپ کے اوپر دوبارہ مہر کی ادائیگی لازم نہ ہو گی، پھر اگر آپ کے والد نے آپ کے کہنے پر مہر دیا ہو تو وہ  آپ سے ادا کردہ رقم کا  مطالبہ کر سکتے ہیں اور اگر آپ کے  کہے  بغیر دیا ہو تو اُن کو  آپ سے مطالبہ کرنے کا حق نہ ہو گا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 140):

"(قوله: وصح ضمان الولي مهرها) أي سواء ولي الزوج أو الزوجة صغيرين كانا أو كبيرين، أما ضمان ولي الكبير منهما فظاهر لأنه كالأجنبي. ثم إن كان بأمره رجع وإلا لا."

فقط  واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144210201491
تاریخ10-06-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں