بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شیعہ لڑکے اور سنی لڑکی کا نکاح

سوال

شیعہ لڑکے  اور  سنی لڑکی کا نکاح ہو سکتا ہے؟

جواب

بصورتِ مسئولہ مسلمان لڑکی کا نکاح  جائز ہونے کے لیے لڑکے کا مسلمان ہونا ضروری ہے؛ لہٰذا اگرکسی شیعہ کا عقیدہ یہ ہوکہ قرآنِ  کریم میں تحریف  (ردوبدل)  ہوئی ہے، یا ان کے جو بارہ امام ہیں،  ان کےبارے میں اس بات کا قائل ہوکہ ان کی امامت اللہ جل شانہ کی طرف سے ہے،اور امام گناہ سے معصوم ہیں، ان کو حلال وحرام کا اختیارہے، یا جبرئیل امین سے وحی پہنچانے میں غلطی ہوئی ہے، یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان باندھتاہو  یا اس کے علاوہ کوئی کفریہ عقیدہ رکھتا ہو تو اس طرح کے عقائد رکھنے والا فرد  مسلمان نہیں ہے ، اور کسی سنی لڑکی کا اس سے نکاح جائزنہیں ہے۔

البتہ اگر  ایسا شیعہ لڑکااپنے باطل کفریہ  عقائد سے صدق دل سے توبہ کرکے مکمل براء ت کا اظہار کرے  اور اپنے عقیدہ کے مطابق تقیہ سے کام نہ لے اور صحیح اسلامی عقائد کا دل وجان سے اقرار کرلے تو اس سے نکاح جائز ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144210201483
تاریخ10-06-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں