بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جس کا عقیدہ درست نہ ہو اس کی اقتدا میں نماز کا حکم

سوال

جس امام کا عقیدہ ٹھیک نہ ہو اس کے  پیچھے نماز کا کیا حکم ہے ؟

جواب

عقیدہ صحیح نہ ہونے سے کیا مراد ہے؟ اگر عقیدے کی وضاحت کردی جاتی تو وضاحت کے ساتھ جواب دیا جاسکتا، اس لیے کہ بسا اوقات کوئی شخص کسی بات کو غلط عقیدہ سمجھتا ہے جب کہ وہ عقیدہ غلط نہیں ہوتا، اور بعض اوقات عقیدہ غلط ہی ہوتاہے، لیکن غلط عقائد کی مختلف صورتیں ہیں، بعض صورتوں میں کفر تک بات پہنچ جاتی ہے، اور بعض میں فسق و بدعت تک، بہرحال اصولی جواب درج ذیل ہے:

بصورتِ مسئولہ  امامت کے جلیل الشان منصب کے لیے  صحیح العقیدہ افراد کا انتخاب کیا جانا ضروری ہے۔ فاسد عقیدے والے امام کی اقتدا  میں نماز  ادا کرنا مکروہِ تحریمی ہے،اور اگر عقیدہ اس حد تک خراب ہو کہ کفر وشرک تک پہنچتا ہوتو ایسے شخص کی اقتدا  میں نماز ہی ادا نہیں ہوگی۔یہ ایک اصولی جواب ہے۔

یہ بھی واضح رہے کہ جب تک کسی شخص کے عقائد ونظریات کے بارے میں یقینی  ذرائع سے کوئی بات پایہ ثبوت کو نہ پہنچے  یا وہ شخص خود صراحت نہ کرے، عمومی اشارات یا مبہم باتوں سے استدلال کرکے کسی شخص کا کردار مجروح کرنا شرعاً ہر گز روا نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144210201297
تاریخ07-06-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں