بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لا پرواہ طالب علم کا داخلہ

سوال

لاپرواہ یا کمزور  طالبِ علم  جو  ٹائم پاس کرنے یا برائے نام عالم ہونے  کے لیے مدرسے میں رہے، نہ  تکرار نہ مطالعہ نہ سبق میں حاضری،  کام چور بھی ہو۔ کیا اس کو برکت حاصل کرنے کے  لیے مدرسہ  میں رہنے دیا جائے یا جاہل عالم کے فتنے  کا باعث بننے کے خطرہ  سے خارج کیا جائے؟ کیا معاشرے میں یہ اصلا ح پیدا کریں گے یا بگاڑ؟

جواب

ایسے  طلبہ کے حوالے  سے مدرسہ  کی انتظامیہ نے جو ضابطہ مقرر کیا ہو، اس کے  مطابق عمل کیا جائے، اگر    ایسے طلبہ کو  ادارے  میں رکھنا مقصود  ہو تو انہیں اس وقت تک سند جاری نہ  کی جائے جب تک ان میں  صلاح و تقویٰ ظاہر نہ ہو۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144210201243
تاریخ06-06-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں