بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر مستعمل کپڑے جلانا کپڑوں کو جلانا

سوال

جو کپڑے استعمال میں نہ  ہوں ،  کیا ہم انہیں جلا سکتے ہیں؟  جب کہ صدقہ لینے والا بھی کوئی نہ ہو۔

جواب

کپڑے  جب کہ  استعمال کے قابل ہوں،ان کو جلانا   درست نہیں؛ کیوں کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمت کی ناقدری اور ناشکری ہے، لہذا اس کو جلانے کے بجائے مستحق تک پہنچانے کی کوشش کرنی چاہیے، اگر  قریب میں مستحقین موجود نہیں یا براہِ راست کسی مستحق تک پہنچانا دشوار ہو تو ایسے اداروں کو بھی دیے جا سکتے ہیں جو اس کو مستحقین تک پہنچا سکتے  ہیں یا دوسرے علاقوں کے مستحقین تک پہنچائے جاسکتے ہیں،   جلانے سے احتراز کرنا ضروری ہے، ہاں! اگر وہ اتنے بوسیدہ ہو گئے ہوں کہ وہ قابلِ انتفاع ہی نہ رہے ہوں اور کسی دوسرے کام میں بھی نہ لیے جاسکتے ہوں  تو پھرجلائے  جا سکتے ہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144210201206
تاریخ05-06-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں