بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 جُمادى الأولى 1448ھ 22 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امام مسجد کا چار ماہ کے تعطل کے بعد گزشتہ مہینوں کی تنخواہ کا مطالبہ کرنا

سوال

ایک  حافظ  صاحب اپنے  محلے کی مسجد میں امامت کرتے تھے،  پھر کسی حادثے میں اُن کے  ہاتھ میں چوٹ آگئی جس کی وجہ سے وہ نماز پڑھانے سے معذور ہو گئے  تو کمیٹی کے ممبران نے کسی دوسرے امام کو بلایا  جو  کہ عالم ہیں اور  محلے کے لوگ بہت خوش بھی ہیں ۔ اب  بات  اصل یہ ہے کہ جب مولانا یہاں امامت کے لیے عارضی طور پر آئے تو لوگوں نے پرانے امام یعنی حافظ صاحب سے کہا کہ آپ نائب امام ہو جاؤ  آپ کی تنخواہ  جتنی تھی، اتنی ہی رہے گی، تو حافظ  نے صاف انکار کر دیا جس کی وجہ سے ان کو تنخواہ  بھی نہیں دی گئی، اب وہ چار مہینے بعد نائب ہونے پر راضی ہو گئے ہیں اور کہہ رہے ہیں  کہ مجھے چار مہینے کی  تنخواہ  دی جائے ۔تو  کیا ان کو پہلے انکار کرنے کے باوجود بھی ان گزشتہ مہینوں کے تنخواہ  دی  جائے گی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  جب تک سابق امام (حافظ صاحب) نے کمیٹی والوں کے سامنے صاف انکار نہیں کیا تھا اس وقت تک وہ اپنی تنخواہ کے مستحق ہوں گے، بشرطیکہ پہلے سے ایسا کوئی واضح معاہدہ موجود نہ ہو کہ جن دنوں میں امامت نہیں کرائیں گے، ان دنوں کی تنخواہ نہیں دی جائے گی۔ لہٰذا اگر   چار  ماہ  قبل  حافظ   صاحب  کے  ساتھ   ملازمت کے معاملے کو ختم کر دیا گیا تھا تو  مذکورہ حافظ  صاحب گزشتہ  چار  ماہ کی تنخواہ کے حق دار نہیں ہیں،  اور سوال میں موجود تفصیل  سے ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت ملازمت کے معاہدے کو ختم کر دیا گیا تھا؛  لہذا حافظ صاحب کا گزشتہ چار ماہ کی تنخواہ کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے۔

البحرالرائق شرح کنزالدقائق میں ہے:

"قال رَحِمَهُ اللَّهُ: (وَالْخَاصُّ يَسْتَحِقُّ الْأَجْرَ بِتَسْلِيمِ نَفْسِهِ في الْمُدَّةِ وَإِنْ لم يَعْمَلْ كَمَنْ اُسْتُؤْجِرَ شَهْرًا لِلْخِدْمَةِ أو لِرَعْيِ الْغَنَمِ ) يَعْنِي الْأَجِيرَ الْخَاصَّ يَسْتَحِقُّ الْأَجْرَ بِتَسْلِيمِ نَفْسِهِ في الْمُدَّةِ عَمِلَ أو لم يَعْمَلْ."

(باب الإجارة، ج:8، ص:51، ط:مكتبة رشيدية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144210201202
تاریخ05-06-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں