بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1448ھ 21 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تہجد اور وتر کا وقت اور تہجد کے لیے سونا

سوال

تہجد  کی نماز میں سونے کا کیا حکم  ہے ؟  اور  نماز عشاء کے  کتنی دیر بعد تہجد پڑ ھی جائے اور اس میں عشاء کی و تر کب پڑ ھی جائے؟

جواب

 تہجد کا وقت عشاء کی نماز کے بعد سے شروع ہوتا ہے اور صبح صادق سے پہلے پہلے تک رہتا ہے،  تہجد کے  لیے سونا شرط نہیں ہے، لیکن عموماً   رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورصحابہ کرام کا تعامل  یہی رہاہے کہ  رات کے ابتدائی حصے میں سونے کے بعد  رات  کے آخر ی حصے یا درمیان شب میں بیدار ہوکر  پڑھتے  تھے؛ اس لیے اس کی افضل صورت یہی ہےکہ   ابتدائی رات میں سوجائے اور رات کےآخری پہرمیں تہجد کے نوافل ادا کیے جائیں، اور تہجد کے بعد وتر ادا  کیے جائیں۔

نیز اگر  تہجد  میں  اٹھنے کا یقین نہ ہو تو وتر کی نماز عشاء کے  ساتھ  ہی پڑھ  لی  جائے، اسے تہجد تک مؤخر نہ کیا جائے، اور اگر کسی  کی عام عادت تہجد میں بیدار ہونے کی ہے تو اس کے لیے افضل یہ ہے کہ وتر،   تہجد کے بعد ادا کرے،  تاہم اگر  وتر ادا کرکے سوگیا ، اور رات کو اللہ تعالیٰ نے اٹھ کر عبادت کی توفیق دے دی تو  وتر کے بعد بھی تہجد پڑھنا جائز ہے، اور اس وتر کا اعادہ بھی نہیں کرنا ہوگا۔فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل کے درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ فرمائیں:

تہجد کا وقت کون سا ہے؟

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144210201157
تاریخ04-06-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں