بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کس سے گلہ کروں کہ خُدا بھی میری طرح بیٹھا ہوا ہے منتظر یومِ حساب کا

سوال

کیا یہ جملہ یا شعر کہنا غلط ہے کہ:

"کس سے گلہ کروں کہ خُدا بھی  میری طرح بیٹھا ہوا ہے منتظر یومِ حساب کا"

اس کی وجہ سے کچھ پڑھے  لکھے دوستوں نے تو میرے اوپر کفر تک کا فتویٰ لگا دیا، حال آں کہ میں بھی مدرسہ کی تعلیم حاصل کر چکا ہوں اور اس میں نعوذباللہ کوئی گستاخی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، یہ ویسے ہی اپنے جذبات کا اللہ کے سامنے اظہار ہے، باقی دل کے حال تو اللہ ہی جانتا ہے، آپ اس متعلق رہنمائی فرما دیں!

جواب

صورتِ  مسئولہ  میں   مذکورہ  شعر  کے  معانی میں  اگرچہ تاویل کی گنجائش ہے ،  اس ليے اس كے  كهنے والے پر كفر كا حكم نہیں لگایا جائے گا، البته   چوں کہ (بظاہر) ان  سے غلط معنی کا  وہم پیدا ہوتا ہے، اس لیے عوام کے سامنے  ان کا پڑھنا  فتنہ کا سبب  ہے،اس سے بچنا   چاہیے اور  عوام کے سامنے   اس قسم کے اشعار سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144210201149
تاریخ03-06-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں