بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ترکہ کی تقسیم 1 بیوہ 2 بھائی

سوال

26 جنوری کو میرے بھائی کی وفات ہوئی ہے، ورثاء میں ایک بیوہ  ( جوکہ اب اپنے والدین کے گھر مقیم ہے) اور دو بھائی ہیں، مرحوم بھائی کی کوئی اولاد نہیں تھی،  جب کہ ہماری والدہ والد اور بہن کی وفات مرحوم بھائی کی وفات سے پہلے ہی ہوگئی ہے، مرحوم نے اپنے ترکہ میں  Rs.9,659,000 چھوڑے ہیں، برائے کرم ترکہ کی شرعی تقسیم بتادیں، کہ کس کو کتنا ملے گا؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں مرحوم کے کل ترکہ کو 8 حصوں میں تقسیم کرکے 2 حصے بیوہ کو اور تین  تین حصے  مرحوم کے ہر ایک بھائی کو ملیں گے۔

یعنی/ 9,659,000 روپے میں سے2414750 روپے مرحوم کی بیوہ کو، اور 3622125 روپے مرحوم کے ہر ایک بھائی کو ملیں گے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144210201094
تاریخ03-06-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں