بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کا ’’میں کافر صحیح‘‘ کہنے کا حکم

سوال

میاں بیوی بیٹے تھے کہ میاں نے بیوی کو کہا یہ مسلمانوں کے کام ہیں اور یہ کافروں کے، بیوی نے کہا:  "میں کافر صحیح"، اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

اگر کوئی  اپنے اختیار سے اپنے آپ کو  صراحتًا کافر کہہ دے تو وہ اپنے قول کی وجہ سے کافر ہوجائے گا، اس  لیے صورتِ  مسئولہ میں مذکورہ خاتون  ، یہ الفاظ ’’میں کافر صحیح‘‘  کہنے سے ، دائرہ اسلام سے خارج ہوچکی ہیں، اب ان پر لازم ہے کہ توبہ کر کے اپنے ایمان اور  نکاح کی تجدید  کرلیں۔

الفتاوى الهندية (2/ 283):

"رجل كفر بلسانه طائعاً، وقلبه مطمئن بالإيمان يكون كافراً، ولايكون عند الله مؤمناً، كذا في فتاوى قاضي خان".

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144210201084
تاریخ02-06-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں