بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

’’انیب‘‘ نام کا مطلب اور رکھنے کا حکم

سوال

میرا نام” انیب“  ہے اور ایسا نام میں نے بہت کم سنا ہے،   اس نام کا  معنی اگر بتا دیں تو مہربانی ہو گی!

جواب

 عربی زبان میں "انیب" بر وزن فعیل مستعمل نہیں ہے، اس سے ملتا جلتا نام  "مُنِیب" ہے،  بمعنی لوٹنے والا، رجوع کرنے والا، یعنی اللہ کی طرف رجوع کرنے والا؛  لہذا ”انیب “ کے  بجائے ”مُنیب “ نام رکھ لیا جائے۔

تاج العروس (4/ 315):

"(ونابَ) زيدٌ (إِلى اللَّهِ) تَعالى: أَقبَلَ، و (تابَ) ، ورجَعَ إِلى الطّاعَة، ( {كأَنَابَ) إِليهِ} إِنابَةً، فَهُوَ  مُنِيبٌ."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144210201079
تاریخ02-06-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں