بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عربک ٹیچر کا ریاضی اور فزکس کے مضامین پڑھانے کا حکم

سوال

میں عربک ٹیچر ہوں، چوں کہ اسکول میں ریاضی اور فزکس کا ٹیچر نہیں، میرا الحمد للہ ان مضامین میں تجربہ ہے، کیامیں بحکم  ہیڈ ماسٹر اپنے مضامین کوچھوڑ کر ریاضی اور فزکس پڑھا سکتاہوں ؟

جواب

اگر آپ ریاضی اور فزکس کے مضامین پوری دیانت داری کے ساتھ اچھی طرح پڑھاسکتے ہیں تو  آپ کے لیے مذکورہ مضامین پڑھانا اور اس کے عوض تنخواہ لینا جائز ہے، لیکن اگر آپ مذکورہ مضامین کو اچھی طرح پڑھانے کی اہلیت نہیں رکھتے  جس  کی وجہ سے اسکول کے طلبہ کی حق تلفی اور نا انصافی لازم آئے گی تو آپ کے  لیے یہ مضامین پڑھانا درست نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144210201060
تاریخ02-06-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں